اسلام گڑھ
سابق امیدوار اسمبلی کرنل محمد معروف نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کا زلزلہ ایک تلخ اور دردناک حقیقت تھی جسکو کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج سے 21 سال پہلے آج ہی کے دن، صبح 8 بج کر 52 منٹ پر آنے والے قیامت خیز زلزلے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہولناک زلزلہ، جس کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی، آزاد کشمیر، کے پی کے اور شمالی علاقہ جات کے شہروں میں زلزلے نے تباہی مچائی جہاں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 8 اکتوبر زلزلے کی شہداء کی برسی کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہولناک زلزلے میں شہید ہونے والے شہداء زلزلہ کی بلندی درجات کے دعا گو ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کی طاقت کے سامنے انسان کتنا بے بس اور مجبور ہے، اور یہ کہ ہمیں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے اس المناک حادثے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ زلزلے کے بعد کے مناظر انتہائی دلخراش تھے، انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ ہمیں قدرتی آفات کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے، اپنی عمارتوں کو مضبوط بنانا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رشتہ مضبوط رکھنا چاہیے۔ اسلام گڑھ سمیت تمام متاثرہ علاقوں کے عوام نے اس مشکل وقت میں جو صبر اور حوصلہ دکھایا، وہ قابل تحسین ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہداء کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور ہمارے ملک کو ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
