نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا معاملہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور اسے بھارت کا داخلی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیانات میں حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے سے اس تنازع کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ معاملہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں نمایاں فرق ہے۔ ان کے مطابق ایک جانب سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش موجود ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، گرفتاریوں اور دیگر پابندیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں، اور ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی اور معیشت سے وابستہ ہے، اس لیے اسے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے عوام و سیکیورٹی اداروں نے اس جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششیں عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہیں۔
اپنے خطاب میں صائمہ سلیم نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بھارت سے منسلک بعض دہشت گرد نیٹ ورکس کے شواہد مختلف مواقع پر سامنے آ چکے ہیں، جبکہ انہوں نے کلبھوشن یادیو کیس کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کیا۔
خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 اور اپنے بین الاقوامی معاہداتی وعدوں کے مطابق ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ پیش رفت کرے۔