ایس آئی ایف سی کی معاونت اور حکومتی اصلاحات کے باعث پاکستان کا آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنا رہا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے نے 3.9 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا، جو ملکی سروسز سیکٹر کی تاریخ میں سب سے بڑا سرپلس قرار دیا جا رہا ہے۔
فری لانسرز کی جانب سے بھی نمایاں کارکردگی سامنے آئی، جن کی ترسیلات زر 78 فیصد اضافے کے بعد 1.76 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ڈیجیٹل معیشت میں پاکستانی نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، ٹیکس مراعات، فارن کرنسی اکاؤنٹس کی سہولت اور اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز نے آئی ٹی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے قومی مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 بھی متعارف کرائی ہے، جبکہ 2030 تک اے آئی تحقیق، جدت اور خودمختار کمپیوٹنگ کے فروغ کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
ہری پور میں قائم سینو پاک سینٹر فار اے آئی اور نسٹ کا نیشنل سینٹر آف اے آئی تحقیق، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مزید مؤثر مقام دلانے کی کوششیں جاری ہیں۔