- ڈیرہ اسماعیل خان( فاروق بلوچ ) تونسہ کے کاشتکاروں کو ان کا حق دیا جائے، مولانا فضل الرحمان۔
سی آر بی سی نہر کی فوری بحالی کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں، قائد جمعیت کی میڈیا سے گفتگو
سی آر بی سی نہر کی فوری بحالی کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں پانی چوری روکنے، پانچ ہزار کیوسک فراہمی بحال کرنے اور زرعی معیشت بچانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت فوری اقدامات کرے میڈیا سے گفتگو۔ تفضیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چشمہ رائٹ بینک کینال (سی آر بی سی) کی فوری مرمت و بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں اور ضلع تونسہ کے ٹیل پر واقع ہزاروں کاشتکاروں کو ان کے جائز حقوق کے مطابق آبپاشی کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سی آر بی سی نہر ڈیرہ اسماعیل خان اور تونسہ سمیت جنوبی خطے کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر افسوس کہ گزشتہ دو دہائیوں سے اس اہم منصوبے کی مرمت اور بحالی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف نہر کی استعداد متاثر ہوئی بلکہ زرعی شعبہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہر کی خستہ حالی کے باعث واپڈا مقررہ پانچ ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے کے بجائے صرف تقریباً ساڑھے تین ہزار کیوسک پانی چھوڑ رہا ہے، جبکہ نہر کے مغربی کنارے پر بعض بااثر زمیندار مبینہ طور پر بڑی مقدار میں پانی چوری کر کے کمانڈ ایریا کے دیگر کاشتکاروں کا حق سلب کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت اور غیر منصفانہ تقسیم کے باعث جنوبی پنجاب کے ضلع تونسہ کے ٹیل پر واقع کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ متعدد علاقوں میں لوگوں کو آبپاشی تو درکنار، پینے کا پانی بھی میسر نہیں، جبکہ مسلسل خشک سالی کے باعث کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے زرعی پیداوار اور دیہی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تونسہ کے ہزاروں کاشتکار اپنے مطالبات کے حق میں ٹرالی مارچ کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پانی کی چوری کا فوری سدباب کیا جائے، سی آر بی سی نہر کی مرمت مکمل کر کے اس کی اصل استعداد بحال کی جائے اور مقررہ پانچ ہزار کیوسک پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ محکمہ آبپاشی کو فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے سی آر بی سی نہر کی بحالی کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرہ زرعی معیشت کو سہارا مل سکے اور کمانڈ ایریا کے ہزاروں کاشتکار قومی معیشت میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکمران زرعی پیداوار میں اضافے اور کاشتکاروں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے زراعت جیسے اہم شعبے کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف جنوبی خیبرپختونخوا بلکہ پورے خطے میں آبپاشی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
