حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن منصوبے کی منظوری کی سفارش کردی گئی ہے، جبکہ حتمی منظوری کے لیے منصوبہ ایکنک کو بھیج دیا گیا ہے۔
منصوبے کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرض سے کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس نئے قرض کے بعد ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے پاکستان کی جانب سے حاصل کیے گئے غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 4.9 ارب ڈالر ہوجائے گا۔
منصوبے کے تحت ایف بی آر کے ریونیو نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ایف بی آر نے 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.3 فیصد سے بڑھا کر 13.5 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس کے علاوہ فعال رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 70 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
پلاننگ کمیشن نے ایف بی آر سے ماضی میں غیر ملکی معاونت سے مکمل کیے گئے ٹیکس اصلاحاتی منصوبوں کے نتائج کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
