خواتین سے متعلق مبینہ امتیازی رویوں کے باعث بھارت کے ہندوتوا بیانیے پر عالمی سطح پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فرانس میں ایک ہندوتوا تنظیم سے منسلک خواتین مخالف اقدامات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوتوا سیاست اور خواتین کے حقوق سے متعلق بھارت کے دعووں پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق فرانس میں پیش آنے والے واقعے نے بھارت کے ترقی پسند اور مساوات پر مبنی تشخص کے دعووں کو متاثر کیا ہے۔
فرانسیسی جریدے لی فگارو نے بھی مبینہ امتیازی رویے کو فرانس کے مساوات اور عدم تفریق کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔
بھارتی مصنفہ سریموئی پیو کنڈو کے مطابق خواتین سے متعلق ایسے تنازعات بھارت کے عالمی تشخص پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کے صنفی مساوات سے متعلق دعووں کو بھی ان واقعات کے تناظر میں تنقید کا سامنا ہے۔
