گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی زیر صدارت لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز کے 9ویں سینیٹ اجلاس میں جامعہ کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ نے اپنی رینکنگ اینڈ اسکورنگ 41 فیصد سے بڑھا کر 85.32 فیصد کردی ہے، جبکہ ایک سال کے دوران 86 ملین روپے کی بچت بھی کی گئی۔
جعفر خان مندوخیل نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین اور ان کی ٹیم کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میرٹ، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے ذریعے محدود وسائل میں بھی نمایاں نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں اب تک 177 تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں جبکہ جامعہ کے قیام سے اب تک تقریباً 5 ہزار طلبہ گریجویشن مکمل کرچکے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کا محل وقوع اسے بلیو اکانومی، سمندری علوم، فشریز، میرین بائیو ڈائیورسٹی، ساحلی علاقوں اور آبی وسائل کے شعبوں میں ایک اہم علمی مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے یونیورسٹیوں میں تحقیق کو عملی مسائل کے حل سے جوڑنے اور نوجوانوں کو جدید سائنسی، تکنیکی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں یونیورسٹی کے مالی امور، انتظامی معاملات، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر غور کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے
