افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروپوں کی کارروائیوں میں تیزی آنے سے طالبان حکومت کو سیکیورٹی کے حوالے سے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق جولائی سے یکم ستمبر 2026 تک نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، فریڈم فرنٹ اور یونائیٹڈ فرنٹ سمیت مختلف طالبان مخالف گروپوں نے مجموعی طور پر 73 حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ، نیشنل موبلائزیشن فرنٹ، فریڈم موومنٹ اور فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے بھی طالبان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔
جریدے کا کہنا ہے کہ مخالف گروپ اپنی کارروائیوں کے ذریعے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے، عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے، رسد کے ذرائع مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی سطح پر موجود اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی عوامی حمایت میں کمی اور اندرونی اختلافات نے بھی مخالف گروپوں کو مزید سرگرم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے دوران طالبان مخالف محاذوں کا پھیلاؤ افغانستان میں موجود داخلی شکایات اور بڑھتے ہوئے سیاسی و سیکیورٹی مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔
