پاکستان کا شاندار کم بیک، ویسٹ انڈیز 344 رنز پر آل آؤٹ، عبداللہ شفیق کی سنچری نے میچ کا رخ بدل دیا
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف میزبان ٹیم کو پہلی اننگز میں 344 رنز پر محدود کیا بلکہ اس کے بعد اپنی بیٹنگ سے بھی بھرپور جواب دے کر میچ میں مضبوط پوزیشن حاصل کر لی۔
ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 344 رنز اسکور کیے۔ اگرچہ میزبان ٹیم کے چند بلے بازوں نے اچھی مزاحمت دکھائی، تاہم پاکستان کے بولرز نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کو بڑے اسکور تک پہنچنے سے روک دیا۔ پاکستانی باؤلرز نے نظم و ضبط کے ساتھ لائن اور لینتھ برقرار رکھی، جس کے باعث ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ زیادہ دیر تک برتری قائم نہ رکھ سکی۔
جواب میں پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز اعتماد کے ساتھ کیا۔ اوپنر عبداللہ شفیق نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی۔ انہوں نے صبر، تکنیک اور بہترین شاٹ سلیکشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کو زیادہ مواقع فراہم نہیں کیے۔ ان کی یہ اننگز پاکستان کی پہلی اننگز کی بنیاد ثابت ہوئی۔
دوسری جانب سابق کپتان بابر اعظم بھی بھرپور فارم میں دکھائی دیے۔ بابر نے 86 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر عبداللہ شفیق کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان اہم شراکت داری نے پاکستان کو نہ صرف مشکلات سے نکالا بلکہ میچ کا رخ بھی پاکستان کی جانب موڑ دیا۔ اگرچہ بابر اعظم اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے، تاہم ان کی اننگز پاکستان کے لیے بے حد اہم ثابت ہوئی۔
دوسرے روز کھیل کے اختتام تک پاکستان نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنا لیے تھے اور اب وہ پہلی اننگز میں صرف 78 رنز کے خسارے کا شکار تھا۔ اس صورتحال نے تیسرے روز کے کھیل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کا بہترین موقع موجود ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان نے پہلے ٹیسٹ کے مقابلے میں اس میچ میں کہیں زیادہ منظم اور ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا ہے۔ باؤلرز نے اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی جبکہ بلے بازوں نے بھی اعتماد کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھایا۔ اگر پاکستان تیسرے روز اسی تسلسل کو برقرار رکھتا ہے تو وہ نہ صرف پہلی اننگز میں برتری حاصل کر سکتا ہے بلکہ میچ جیتنے کی مضبوط پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے۔
پاکستانی شائقین کی نظریں اب تیسرے روز کے کھیل پر مرکوز ہیں، جہاں عبداللہ شفیق اپنی شاندار اننگز کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے، جبکہ دیگر بلے باز ٹیم کو بڑی برتری دلانے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ اگر پاکستان اسی انداز میں کھیلتا رہا تو سیریز میں واپسی کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔
