اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول بیوروکریسی سے متعلق اجازت ناموں کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے سرکاری افسران کو ماضی میں جاری کیے گئے مختلف این او سیز اور خصوصی اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے وفاقی سیکریٹریز، صوبائی چیف سیکریٹریز، انسپکٹر جنرلز پولیس اور مختلف محکموں کے سربراہان کو اس حوالے سے مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق سول سرونٹس سے متعلق قواعد کے تحت ماضی میں جاری کیے گئے اجازت نامے اب مؤثر نہیں رہیں گے۔ جن افسران کو نجی کاروبار، ملازمت، میڈیا سرگرمیوں، غیر ملکی اعزازات یا دیگر مخصوص امور کے لیے اجازت حاصل تھی، انہیں نئے قواعد کے تحت دوبارہ اجازت کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
حکومتی فیصلے کے تحت سرکاری افسران کی نجی تجارت، کاروباری سرگرمیوں یا بعض غیر سرکاری اداروں سے وابستگی سے متعلق سابقہ اجازت نامے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔
اسی طرح غیر ملکی حکومتوں، اداروں یا تنظیموں سے اعزازات اور خطابات قبول کرنے کے لیے حاصل کیے گئے این او سیز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
مراسلے میں سرکاری معلومات یا دستاویزات میڈیا اور غیر مجاز افراد تک پہنچانے، اخبارات و جرائد کی ملکیت یا ادارت، جبکہ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات میں تحریر و تقریر سے متعلق سابقہ اجازت ناموں کو بھی ختم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق اب ایسے تمام افسران جن کی سرگرمیاں ان قواعد کے دائرے میں آتی ہیں، انہیں نئے نافذ العمل سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت دوبارہ اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
یہ اقدام سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، مفادات کے ٹکراؤ اور سرکاری معلومات کے استعمال سے متعلق قواعد پر مزید سختی سے عملدرآمد کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
