کراچی: سندھ کے صوبائی وزیر برائے ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کراچی کینٹ اسٹیشن سے آزادی ٹرین کو تھر کے لیے روانہ کردیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کے افسران بھی موجود تھے۔
تھر سفاری ٹرین کو یومِ آزادی کے حوالے سے خصوصی انداز میں سجایا گیا ہے۔ ٹرین پر اجرک، قومی پرچم اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصاویر پر مشتمل پینا فلیکسز آویزاں کیے گئے ہیں، جو سندھ کی ثقافت اور قومی جذبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق آزادی ٹرین میں 165 مسافر سوار ہیں اور ٹرین آج شام تھر پہنچے گی۔ مسافر 14 اگست کو تھر کے زیرو پوائنٹ سمیت مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی جشنِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے بعد ٹرین اگلی شام کراچی واپس روانہ ہوگی۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ ڈیزرٹ سفاری ٹرین کو خصوصی طور پر آزادی ٹرین کے طور پر چلایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے سندھ کی ثقافت، روایات اور قومی جذبے کو اجاگر کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی ٹرین سندھ کے صحرائی خطے میں پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریبات کو منفرد رنگ دے گی، جبکہ اس سفر میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی شرکت بھی صوبے کے سیاحتی امکانات کو نمایاں کرتی ہے۔
سید ذوالفقار علی شاہ کے مطابق سندھ میں مذہبی اور ثقافتی سیاحت کے حوالے سے متعدد اہم مقامات موجود ہیں جنہیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھر میں 14 اگست کی تقریبات کے دوران سندھ کی ثقافت، روایتی رنگ، مقامی ورثہ اور پاکستان سے محبت کے جذبات نمایاں کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے بعض سیاح بھی ڈیزرٹ سفاری ٹرین کے سفر کا حصہ ہیں، جو سندھ کے ثقافتی اور صحرائی حسن کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔
آزادی ٹرین کی تھر روانگی کو یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ ساتھ سندھ میں ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کی ایک منفرد کوشش قرار دیا جا رہا ہے
