کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: 20 گھنٹے بعد سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل، شہداء کی تعداد 22 ہوگئی
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن تقریباً 20 گھنٹے بعد مکمل کرلیا گیا۔
حکام کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس لائنز مسجد اور اطراف کی عمارتوں میں داخل ہونے والے تمام دہشت گردوں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 8 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ایلیٹ فورس کمانڈوز، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کے اہم حصوں کو کلیئر کرلیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کی نگرانی جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) کوہاٹ نے کی۔ پاک فوج کے کمانڈوز، جوانوں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کی مکمل کلیئرنس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا۔
آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی موقع پر موجود رہے اور آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کا حوصلہ بڑھایا۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈی پی او کوہاٹ نے آپریشن کی قیادت کی، جبکہ جی او سی کوہاٹ بھی موقع پر موجود رہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کو شاباش دیتے ہوئے انعامات کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب پولیس لائنز دھماکے کے مقام سے ایک مزید پولیس اہلکار کی لاش ملنے کے بعد شہداء کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کوہاٹ اسپتال ڈاکٹر طاہر شاہ کے مطابق شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کے چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل ہیں۔
جی او سی کوہاٹ نے کلیئرنس آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے عزم کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور پولیس کے جوان صف اول میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ملک و قوم کے تحفظ کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ان کے مطابق جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیوں میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔
واضح رہے کہ پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے دھماکے اور حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ شہداء میں 16 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔ شہداء میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری کے علاوہ پولیس اہلکار بھائی نعمت اللہ اور محرر عصمت اللہ بھی شامل ہیں، جن کا تعلق لکی مروت سے تھا۔
حملے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک کوہاٹ اکبر خان شنواری سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، صوبائی وزرا، جنرل آفیسر کمانڈنگ، کمشنر کوہاٹ، دیگر سیاسی و سماجی شخصیات، شہداء کے اہلخانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کوہاٹ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ اعلیٰ حکام نے شہداء کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ بعد ازاں شہداء کے جسد خاکی تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کردیئے گئے۔
