شام میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے شام میں ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی صورتحال کو برقرار رکھنے سے متعلق ایک سمجھوتا موجود تھا، تاہم حلب کے قریب ایک ایئربیس پر ترک فوجیوں کی ممکنہ موجودگی کو اسرائیل نے اس انتظام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ شام کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا کہ کسی حساس فوجی اڈے پر ترک فورسز کی تعیناتی خطے میں سیکیورٹی خدشات پیدا کرسکتی ہے۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق ان انتباہات کے باوجود صورتحال آگے بڑھ رہی تھی، جس کے بعد ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ترکیہ نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شام میں کسی فوجی اڈے پر ایسی تعیناتی کی تیاری نہیں کی جا رہی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا کرنا ہو۔
اس معاملے نے اس لیے بھی اہمیت اختیار کرلی ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیلی کارروائی پر تنقید سامنے آئی ہے۔ تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں موجود سیکیورٹی معاملات خطے کے اہم ممالک کے درمیان ایک نئے تنازع کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی اور سیاسی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
