لاہور: سپریم کورٹ نے اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کے انتقال کی صورت میں، اگر اس کے قانونی ورثا موجود ہوں تو مقدمہ یا اپیل محض موت کی بنیاد پر ختم نہیں کی جا سکتی۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محکمانہ ترقی سے متعلق عبد الحق کی اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ معاملے کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ عبد الحق ایف بی آر میں اپر ڈویژن کلرک کے طور پر کام کرتے تھے۔ 1995 میں ان کے ساتھ تعینات 15 ملازمین کو سپروائزر کے عہدے پر ترقی دی گئی، تاہم انہیں ترقی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ حکام سے رجوع کیا اور 2000 میں انہیں ترقی دے دی گئی، لیکن انہوں نے اس فیصلے کو بھی فیڈرل سروس ٹربیونل میں چیلنج کر دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ عبد الحق 13 جنوری 2019 کو انتقال کر گئے، جس کے چند روز بعد ٹربیونل نے ان کی درخواست نمٹا دی۔ بعد میں ان کے بیٹے نے قانونی ورثا کی حیثیت سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر اپیل کنندہ کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث موجود ہوں تو وہ مقدمے کے قانونی حقوق اور ممکنہ فوائد کے حق دار ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے معاملہ دوبارہ فیڈرل سروس ٹربیونل کو بھیجتے ہوئے تین ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
