اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک 21 روز سے جاری ہے اور عوام کو ریلیف دلوا کر ہی دم لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لندن پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سوات میں گزشتہ رات بڑا جلسہ عام ہوا، جس کے بعد وہاں بھی دھرنا شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہڑتال کے نتیجے میں ایک ایسی فضا بنی جس سے حکومت کو عوامی غصے کا احساس ہوا اور اس نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا، تاہم حکومت کو یہ اقدام پہلے ہی کر لینا چاہیے تھا۔
حکومت سے مذاکرات پرسوں شروع ہوں گے
حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ ٹیکنیکل کمیٹی کی سطح پر مذاکرات پرسوں سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ براہ راست عوام کو ریلیف فراہم کرتی، تاہم اب مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن جب عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ سمیت ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ریلیف نہ ملا تو دھرنے جاری رہیں گے
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جب تک عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا، جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں خاطر خواہ پیشرفت نہ ہوئی تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی، جس کے دوران ٹرانسپورٹ اور پیٹرول پمپس بھی بند ہوں گے۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز اور پیٹرول ڈیلرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
