تحریر: احمد خان اچکزئی
محترم قارئین!
اگر تاریخ کے جھروکوں سے سیاسی حکمت و دانش کا جائزہ لیا جائے تو افلاطون کا تنقیدی شعور آج بھی انسانی معاشرے کے ایک بڑے سیاسی مغالطے کی نشاندہی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ قدیم یونان سے لے کر عصرِ حاضر کی پیچیدہ سیاسی بساط تک، عوامی نمائندگی کے دعوے میں لپٹا ہوا سیاسی نظام کئی مرتبہ فکر، دانائی اور بصیرت کے بجائے ظاہری تاثر، جذبات اور سیاسی مقبولیت کو فوقیت دیتا نظر آتا ہے۔
افلاطون سے منسوب ایک معروف خیال ہے کہ جمہوریت لازماً بہترین رہنما کا انتخاب نہیں کرتی بلکہ اکثر وہ شخص کامیاب ہوجاتا ہے جو عوام کو قائل کرنے اور ان کے جذبات پر اثرانداز ہونے کا فن بہتر طور پر جانتا ہو۔ اگرچہ اس قول کی نسبت پر بحث موجود ہے، تاہم اس میں موجود سیاسی نکتہ آج بھی قابلِ غور ہے۔
عوامی حمایت کا حصول اگر حق، سچائی اور کارکردگی کے بجائے دلکش نعروں، بلند بانگ دعووں اور دلفریب وعدوں کا محتاج ہوجائے تو سیاسی عمل میں اخلاقی اقدار اور بصیرت پسِ پشت چلی جاتی ہیں۔ جمہوریت صرف حکمت کا صلہ نہیں دیتی، اس میں عوام کو قائل کرنے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یوں بعض اوقات وہ شخص جو حقیقت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے، اس فرد سے پیچھے رہ جاتا ہے جو تاثرات اور جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہو۔
سنجیدہ اور بااصول لوگ بعض اوقات جذباتی اور ڈرامائی سیاست کے سامنے کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ دراڑ ہے جو عوامی نظامِ حکومت کی بنیادوں کو اندر سے متاثر کرسکتی ہے، جہاں متانت اور سنجیدگی کو سطحی جذباتیت کے سامنے پسپا ہونا پڑتا ہے۔
قابلیت پیچھے ہٹے تو چال بازی آگے بڑھتی ہے
جب اہلِ دانش، صاحبِ صلاحیت افراد اور سنجیدہ سیاسی قوتیں عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتی ہیں تو قیادت کا خلا خودغرض اور موقع پرست عناصر کے لیے کھل جاتا ہے۔
افلاطون سے منسوب ایک اور معروف خیال ہے کہ حکومت کرنے سے انکار کی سزا یہ ہوتی ہے کہ انسان کو اپنے سے کمتر لوگوں کے زیرِ اقتدار آنا پڑتا ہے۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ سیاسی عمل کا ایک اہم اصول بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
جب قابلیت پیچھے ہٹتی ہے تو جوڑ توڑ آگے بڑھتا ہے، جب سچ بولنا مشکل ہوجاتا ہے تو جھوٹ زیادہ مؤثر دکھائی دینے لگتا ہے، اور جب اقتدار کا پیمانہ صرف مقبولیت بن جائے تو سیاسی شعبدہ بازی ایک باقاعدہ حکمتِ عملی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں دانائی خاموش ہوجائے، وہاں سطحی مقبولیت اور سیاسی چال بازی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا راستہ بنا لیتی ہے۔
معاشروں کا زوال کیسے شروع ہوتا ہے؟
معاشروں کا زوال ہمیشہ کسی بیرونی حملے یا اچانک رونما ہونے والے حادثے سے نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ یہ ایک سست اور خاموش اندرونی عمل ہوتا ہے، جس میں ادارے کمزور، اصول غیر مؤثر اور اجتماعی اعتماد بتدریج ختم ہوتا جاتا ہے۔
جمہوریت بھی صرف بیرونی دباؤ سے کمزور نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر موجود کمزوریاں اسے کھوکھلا کرسکتی ہیں۔ جب سیاسی نظام میں جھوٹ، بدنظمی، کرپشن اور انتہا درجے کی جذباتیت غالب آجائے تو عوام میں مایوسی جنم لیتی ہے۔
ایسے حالات میں لوگ آزادی کے ساتھ ساتھ نظم، استحکام اور تحفظ کے بھی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ اگر جمہوری ادارے ان توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہیں تو معاشرے میں سخت گیر قیادت کے لیے قبولیت پیدا ہوسکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں افلاطون کی جمہوریت سے متعلق تشویش ایک نئے زاویے سے قابلِ فہم دکھائی دیتی ہے: جب عوام مسلسل انتشار اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آجائیں تو وہ بعض اوقات آزادی کے بجائے مضبوط ہاتھ کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔
جدید میڈیا اور سیاست کا نیا چیلنج
موجودہ دور میں مواصلاتی ذرائع اور سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج سیاست صرف جلسوں، تقریروں اور اخبارات تک محدود نہیں رہی بلکہ چند سیکنڈ کی ویڈیو، ایک جذباتی بیان یا ایک وائرل پوسٹ بھی عوامی رائے تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بصری میڈیا اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے سیاسی تاثر کی اہمیت کئی گنا بڑھا دی ہے۔ اب بعض اوقات قیادت کی حقیقی کارکردگی سے زیادہ یہ اہم ہوجاتا ہے کہ کوئی سیاسی شخصیت خود کو عوام کے سامنے کس انداز میں پیش کرتی ہے۔
نتیجتاً قابلیت، وژن اور طویل المدت منصوبہ بندی کے بجائے جذباتی اپیل، مقبول نعروں اور نفسیاتی تاثر کی سیاست زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔
سچ اکثر پیچیدہ اور کڑوا ہوتا ہے، جبکہ جھوٹ سادہ، خوبصورت اور پرکشش انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلط معلومات اور جذباتی بیانیے عوامی رائے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
جمہوریت کا اصل امتحان
جب کوئی معاشرہ جذباتی ترغیب کو حقیقت، تحقیق اور دلیل پر مسلسل فوقیت دینے لگے تو قانون، اداروں اور انصاف پر عوام کا اعتماد متاثر ہونے لگتا ہے۔
تاریخ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ جمہوری نظام صرف انتخابات کا نام نہیں۔ مضبوط جمہوریت کے لیے باشعور عوام، فعال ادارے، آزادانہ احتساب، قانون کی بالادستی، ذمہ دار سیاسی قیادت اور آزاد و ذمہ دار ذرائع ابلاغ بھی ضروری ہیں۔
اگر ان عناصر میں سے کوئی ایک مسلسل کمزور ہوتا رہے تو جمہوری نظام کا ظاہری ڈھانچہ برقرار رہنے کے باوجود اس کی روح متاثر ہوسکتی ہے۔
اس لیے افلاطون کے خیالات کو محض جمہوریت کی مخالفت کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں ایک سیاسی تنبیہ کے طور پر بھی سمجھا جاسکتا ہے: اگر عوامی اختیار کو دانش، اخلاق، دلیل اور ذمہ داری سے جوڑا نہ جائے تو مقبولیت خود ایک خطرناک سیاسی ہتھیار بن سکتی ہے۔
جمہوریت کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ عوام کس کو منتخب کرتے ہیں، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ وہ کس بنیاد پر انتخاب کرتے ہیں۔ جب ووٹر شخصیت کے سحر کے بجائے کردار، کارکردگی، دلیل اور وژن کو ترجیح دینے لگے تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔
آخرکار کسی بھی معاشرے کا مستقبل صرف حکمرانوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ عوام، سیاسی قیادت، ادارے اور دانشور طبقہ سب اس مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں اجتماعی شعور زندہ رہے، وہاں جمہوریت محض ایک انتخابی عمل نہیں رہتی بلکہ ایک ذمہ دار طرزِ حکمرانی بن جاتی ہے۔
