اسرائیلی آبادکاری فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار
نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیلی آبادکاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں جاری آبادکاری کی سرگرمیاں مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کمیٹی برائے فلسطین سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر فوری عالمی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سیاسی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور انسانی بحران اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش ہے، جبکہ تنازع کے حل کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی الحاق کی پالیسیاں اور آبادکاری کی سرگرمیاں مستقبل کی فلسطینی ریاست کی جغرافیائی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
اسحاق ڈار نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
نائب وزیراعظم نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ایک مؤثر اور مربوط سفارتی حکمت عملی اختیار کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پائیدار اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے ہی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جس کے لیے او آئی سی کو اپنا کردار مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔
