اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان مالی معاملات سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہوئی، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حسابات میں سامنے آنے والے فرق سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرکے عالمی مالیاتی ادارے کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔
مالی سال 2025-26 کے حسابات میں وفاقی حکومت کے حصے میں 448 ارب روپے جبکہ پنجاب کے حسابات میں 266 ارب روپے کا شماریاتی فرق سامنے آیا۔
حکام کے مطابق وفاقی اور صوبائی حسابات مرتب کرنے کے طریقہ کار میں فرق، صوبائی حکومتوں کی ٹریژری پیپرز میں سرمایہ کاری اور جون کے اختتام پر رقوم کے اخراج و حقیقی اخراجات کے اندراج میں فرق اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔
پنجاب کے محکمہ خزانہ کے مطابق کمرشل اکاؤنٹس میں رقوم کی آمد و اخراج اور حسابات کے مختلف طریقہ کار کے باعث بھی فرق پیدا ہوا۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو مزید تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکام کے مطابق اس شماریاتی فرق سے حکومت کے ظاہر کردہ بنیادی بجٹ سرپلس پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پنجاب اور سندھ سے زرعی انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیاں 5 ارب روپے سے کچھ زیادہ رہیں۔
حکام کے مطابق رواں مالی سال میں بھی دونوں صوبوں کے لیے مقررہ اہداف کے حصول سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
