لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن یعنی ای او بی آئی کسی کمپنی پر اضافی واجبات عائد کرنے سے قبل متعلقہ ریکارڈ اور ملازمین کی تفصیلات کی قانونی طور پر جانچ کرے گا۔
جسٹس جواد حسن نے سکیورٹی آرگنائزنگ سسٹم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ای او بی آئی کی ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کا فیصلہ اور اپیلیٹ بورڈ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کمپنی کا متعلقہ ریکارڈ دستیاب ہو تو ای او بی آئی براہ راست قانون کی دفعہ 12(3) کے تحت اسیسمنٹ نہیں کر سکتا۔
فیصلے کے مطابق مذکورہ شق اس وقت استعمال کی جا سکتی ہے جب کمپنی ضروری ریکارڈ یا مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں کمپنی کا ریکارڈ موجود تھا لیکن ای او بی آئی نے پہلے اس کی مکمل جانچ نہیں کی۔
درخواست گزار کمپنی کا مؤقف تھا کہ متعلقہ مدت کے دوران ماہانہ ای او بی آئی کنٹری بیوشنز باقاعدگی سے ادا کی گئی تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ دوبارہ متعلقہ اتھارٹی کو بھجواتے ہوئے کمپنی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینے اور قانون کے مطابق نیا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت کے مطابق ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد قانونی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ای او بی آئی واجبات کا تعین کر سکتا ہے۔ متعلقہ اتھارٹی کو دو ماہ کے اندر وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
