پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرول کی قیمت اور گیس کمپنیوں کے واجبات سمیت مختلف معاشی معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن پر عمومی یا کراس سبسڈی کی مخالفت کرتے ہوئے مستحق افراد کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف کی تجویز دی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کو تین ماہ سے زیادہ جاری رکھنا ممکن نہیں جبکہ اس مدت کی سبسڈی کی لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق معاملات بھی زیر بحث ہیں۔
پاکستانی حکام نے معاشی جائزہ مذاکرات کے دوران برآمدات، ترسیلات زر، درآمدات اور معاشی نمو سے متعلق مختلف تخمینے بھی پیش کیے ہیں۔
