اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی سابق طالبہ لائبہ اعجاز کی ہلاکت کے معاملے میں اہلِ خانہ نے مبینہ تعلیمی فراڈ سے متعلق مزید تفصیلات بیان کی ہیں۔ خاندان کے مطابق لائبہ نے فزکس میں بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سائنسدان بننا چاہتی تھی۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ایک کنسلٹنٹ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر داخلے کا جھانسہ دے کر جعلی خط فراہم کیا اور داخلے کے لیے مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے طلب کیے۔ خاندان کے مطابق والد نے پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے ملزم کو دیے، جبکہ باقی رقم کے انتظام کے لیے طالبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔ بعدازاں دستاویزات کی جانچ میں مبینہ طور پر وہ جعلی نکلیں۔
اہلِ خانہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مذکورہ شخص نے طالبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا وعدہ کرکے الگ سے 5 لاکھ روپے وصول کیے اور خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا اکاؤنٹس افسر ظاہر کرتا رہا۔
دوسری جانب لائبہ اعجاز کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری نے اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے واقعے سے متعلق اہم معلومات طلب کی ہیں، جس کی تصدیق طالبہ کے ماموں رانا امجد نے بھی کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے تھانہ رمنا کی حدود میں ایک درخت سے 22 سالہ لائبہ اعجاز کی لاش ملی تھی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعہ خودکشی معلوم ہوتا ہے، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات اور مبینہ فراڈ سے متعلق الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔
