پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی نظام میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کی بھی اجازت دے دی ہے۔
اس پیش رفت کے تین اہم پہلو بیان کیے جا رہے ہیں۔ ان میں صوبائی انتظامی اختیارات کی منتقلی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات، اور گورنر راج کے آئینی جواز سے متعلق ممکنہ قانونی تنازع شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کو توقع ہے کہ غیرمعمولی آئینی اختیارات کے استعمال سے صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں مدد ملے گی، تاہم اس اقدام کے آئینی اور سیاسی اثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
