نئی دہلی: بھارت میں پُرامن مظاہروں سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار، موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی اور صحافیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے، جبکہ مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور من مانی حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تنظیم کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن کے مطابق، دہلی پولیس پُرامن احتجاج سے نمٹنے کے دوران غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کررہی ہے۔
رپورٹ میں بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے اقدامات پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے اثرات مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب، انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام خارج کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ متن میں 13 کروڑ سے زائد نام خارج ہونے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق یا اس کی تفصیلی بنیاد موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، عالمی میڈیا اداروں نے بھی بھارت میں احتجاج، پولیس کارروائیوں اور جمہوری آزادیوں سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا ہے۔ ان الزامات اور دعوؤں پر متعلقہ بھارتی حکام کا مؤقف فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں
