بھارت: بھارتی حکومت کی جانب سے فوج کی جدید کاری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض منصوبوں کو فوجی اپ گریڈیشن کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دفاعی شعبے کے بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔
تنقیدی مؤقف کے مطابق اگنی ویر بھرتی اسکیم، اے کے 203 رائفلوں کی تیاری اور نئی کیموفلاج وردیوں جیسے اقدامات کو فوج کی مجموعی جنگی صلاحیت میں بڑی تبدیلی قرار دینا درست نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید فوجی ضروریات کے لیے سازوسامان، ٹیکنالوجی اور وسائل کی فراہمی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
این ڈی ٹی وی سے منسوب رپورٹ کے حوالے سے بھارتی فوج کی جنگی صلاحیت کے ایک بڑے حصے کو پرانا قرار دینے اور دفاعی بجٹ کی ضروریات سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے پیش کردہ 68 فیصد سے زائد کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو پیش آنے والے حادثات اور تکنیکی مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں دفاعی جدید کاری کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی صلاحیت کے تقابل کے حوالے سے بھی مختلف دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ معرکہ حق کے دوران بھارتی فوج کو شکست ہونے کا دعویٰ بھی اسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے، تاہم ایسے متنازع فوجی دعوؤں کا جائزہ مستند اور آزاد ذرائع کی روشنی میں لینا ضروری ہے۔
