اسلام آباد (ڈسٹرکٹ نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک سے زائد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں بیک وقت یا یکے بعد دیگرے چلانے کے اہم قانونی نکتے پر قائم 7 رکنی لارجر بینچ کے سامنے پنجاب حکومت نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جواب ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل طارق صدیق نے جمع کرایا۔
پنجاب پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عام نوعیت کے ہر مقدمے میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے چلانے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیے، تاہم غیر معمولی، انتہائی سفاکانہ، وحشیانہ اور غیر انسانی جرائم میں وجوہات پر مبنی واضح عدالتی حکم کے ذریعے سزاؤں کا متواتر نفاذ کیا جا سکتا ہے۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ بالخصوص قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشتگردی جیسے ایسے جرائم جن سے عوامی ضمیر مجروح ہوتا ہے، ان میں سزاؤں کا یکے بعد دیگرے نفاذ فوجداری نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط کرے گا، معاشرے میں توازن برقرار رکھے گا اور سزا کے انتقامی و عبرت ناک مقاصد پورے کرے گا۔
پنجاب حکومت نے مؤقف اپنایا کہ انتظامی مراعات، معافیوں اور تخفیف کا حساب لگانے کے بعد عملی طور پر عمر قید کی مدت 15 سال رہ جاتی ہے۔ متعدد افراد کے قتل میں ملوث مجرم کو یہ فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ وہ محض 15 سال بعد جیل سے آزاد ہو جائے۔
تحریری جواب کے مطابق تمام سزاؤں کو ایک ہی مدت میں ضم کرنا اضافی جرائم کی سنگینی کو کم کر دیتا ہے اور یہ مصنوعی برابری پیدا ہوتی ہے کہ ایک قتل کرو یا کئی، 15 سال بعد گھر ہی آنا ہے۔ متعدد انسانی جانیں لینے کی صورت میں ہر جرم کے لیے الگ اور واضح قانونی سزا ہونی چاہیے۔
پنجاب حکومت نے مزید نشاندہی کی کہ مقننہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پاکستان میں عمر قید کی متعین مدت 25 سال ہے، تاہم کریمنل لاز (ترمیمی) ایکٹ 2021 کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 375-A اور 376 میں ’’مجرم کی طبعی زندگی کی باقی ماندہ مدت کے لیے قید‘‘ کو عمر قید قرار دیا گیا ہے۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر عمر قید سے مراد باقی ماندہ پوری زندگی قید ہوتی تو سزاؤں کو یکے بعد دیگرے چلانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا، کیونکہ کسی شخص کو اس کی باقی زندگی کی مدت کے لیے دو مرتبہ قید نہیں کیا جا سکتا۔
پراسیکیوشن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ شاہ حسین کیس کے پیراگراف 40 میں بشیر کیس میں طے کیے گئے قانونی اصول کو نظر انداز کیا گیا، لہٰذا مذکورہ پیراگراف کو خلافِ قانون قرار دیا جائے۔
