امریکا ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے تیل کی قیمتیں گر گئیں، رسد کے خدشات برقرار
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیر کو صبح 10 بج کر 20 منٹ تک برینٹ خام تیل کی قیمت 2.29 فیصد، یعنی 2.68 ڈالر کمی کے بعد 114.04 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ بعد ازاں برینٹ 1.95 فیصد کمی کے ساتھ 114.44 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتا رہا۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اس کی قیمت 2.49 فیصد، یعنی 2.58 ڈالر گھٹ کر 100.69 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
حالیہ کمی سے قبل تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ رواں سال عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں قیمتیں تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
جمعے کو بھی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی تھی۔ اس دوران ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نومبر کے آغاز میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید حملوں پر غور کر سکتے ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد بعض سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کے لیے تیل فروخت کیا، جس سے قیمتوں میں کمی آئی۔ تاہم ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے لاحق خطرات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ عالمی منڈی میں آئندہ قیمتوں کا انحصار خطے کی سیکیورٹی صورتحال، تیل کی سپلائی اور امریکا ایران تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔
