کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ فیصلہ آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے کیا۔
اس سے قبل گزشتہ پالیسی جائزوں میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔ تازہ اجلاس میں کمیٹی نے افراطِ زر اور دیگر معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں اضافے کا اعلان کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک رہنے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھا۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود میں اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔
گورنر نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی سال کے اختتام تک تقریباً 7 فیصد رہنے کی توقع تھی، تاہم موجودہ حالات کے باعث اس ہدف کے حصول میں وقت لگ سکتا ہے۔ کور انفلیشن میں بہتری آئی ہے، لیکن آئندہ اس کے ثانوی اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اجناس اور تیل کی قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ان میں اضافے کے بعد سالانہ ترسیلات 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رواں مالی سال برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، تاہم درآمدی بل 71 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں معاشی نمو 4.2 فیصد رہی، جبکہ چوتھی سہ ماہی میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے باعث شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
گورنر کے مطابق زرعی شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور پہلی سہ ماہی میں گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار بڑھی، جبکہ کپاس کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
