وفاقی مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 52 فیصد اضافے کے بعد 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد بڑھ کر 3.1 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 14 فیصد اضافے کے بعد 10.9 ارب ڈالر رہیں۔ آئی ٹی برآمدات 18 فیصد بڑھ کر 1.25 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد اضافے کے ساتھ 550 ملین ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔
خرم شہزاد کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو بی کیٹیگری میں مستحکم قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ بھی طے پا گیا، جس کے تحت بورڈ کی منظوری سے مزید 1.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ متوقع ہے۔
ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 57 لاکھ 70 ہزار ہوگئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی تعداد 55 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ پہلی سہ ماہی میں چار آئی پی اوز کے ذریعے 4.6 ارب روپے جمع ہوئے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری 28 فیصد اضافے کے ساتھ 14.3 ارب ڈالر ہوگئی۔ جون 2026 کے مقابلے میں مرکزی حکومت کا مجموعی قرض 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملکی قرض 684 ارب روپے کمی کے بعد 58.8 ٹریلین روپے رہ گیا۔ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر پر برقرار رہا۔
حکومتی اسکیموں کے تحت اپنا گھر پروگرام کے لیے 76 ارب روپے، زرعی اسکیم زرخیـز-ای کے لیے 2.14 ارب روپے اور الیکٹرک موبلٹی اسکیم کے تحت 98 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ الیکٹرک موبلٹی پروگرام میں شہریوں کو 2 ہزار 816 گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ ٹارگٹڈ فیول ریلیف کے لیے مختص 75 ارب روپے سے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ ریٹیل ادائیگیوں کے مجموعی حجم کے 92 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پہلی سہ ماہی میں 15 ہزار 440 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں۔ خرم شہزاد کے مطابق ستمبر 2026 میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رہا۔
