افغانستان کے مختلف علاقوں میں مسلح حملوں کی اطلاعات، طالبان مخالف تنظیموں نے ذمہ داری قبول کرلی
کابل: افغانستان میں طالبان مخالف مسلح تنظیموں نے مختلف صوبوں میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
افغان فریڈم فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغان گرین ٹرینڈ سے منسوب بیانات میں مختلف علاقوں میں مسلح کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ غور، بدخشان، غزنی، زابل، قندھار اور پروان میں سات کارروائیاں کی گئیں۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ان واقعات میں طالبان کے نو اہلکار ہلاک اور نو سے زائد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ کابل کے علاقے قرہ باغ میں طالبان کی ایک گاڑی کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
افغان گرین ٹرینڈ سے منسوب بیان کے مطابق صوبہ بدخشان کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان انٹیلی جنس اہلکاروں کی گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ان دعوؤں کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال اور طالبان مخالف مسلح گروپوں کی سرگرمیوں سے متعلق بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم واقعات کی مکمل نوعیت، نقصانات اور ذمہ داروں سے متعلق حتمی صورت حال کی تصدیق کے لیے مزید آزاد معلومات درکار ہیں۔
تاحال ان واقعات کے حوالے سے متعلقہ حکام کا مکمل مؤقف دستیاب نہیں، اس لیے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کو تنظیموں کے دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
