لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ آج رات ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے، جبکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو جماعت اسلامی کے دھرنوں میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
لاہور کے چیئرنگ کراس پر جماعت اسلامی کا دھرنا 12ویں روز بھی جاری ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پر عائد لیوی ٹیکس ختم کیا جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی جماعت یا گروہ کے لیے نہیں بلکہ ملک کے عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھا رہی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پرامن احتجاج کو کمزوری نہ سمجھے اور عوام کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے اب مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ ان کے مطابق 27 اگست کو فیصل آباد میں جلسہ عام، 30 اگست کو راولپنڈی اور 31 اگست کو پشاور میں جلسہ ہوگا، جبکہ 4 ستمبر کو سوات میں احتجاجی سرگرمی کی جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم، آئی پی پیز کے مبینہ ناجائز معاہدے ختم اور مہنگائی کا بوجھ عوام سے کم کیا جائے۔
پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حادثات رونما ہوسکتے ہیں، تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صرف افسران کی معطلی کافی نہیں، ہر سانحے کے ذمہ دار افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جماعت اسلامی کے احتجاج میں شامل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھرنوں کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ لانگ مارچ کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
