پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بڑھانے کی مخالفت، اختیار ختم یا محدود کرنے پر زور
پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے ویٹو پاور کے معاملے کو حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کے مطابق اس اختیار کو مزید وسعت دینے کے بجائے ختم یا محدود کیا جانا چاہیے تاکہ 15 رکنی کونسل کو زیادہ مؤثر اور منصفانہ بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویٹو پاور کے استعمال پر بحث کے دوران پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویٹو کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی کارکردگی اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کو عالمی ادارے میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کی تنظیمِ نو کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے اپنے بنیادی مقصد کے حوالے سے زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
جنرل اسمبلی کا اجلاس اپریل 2022 میں منظور ہونے والی قرارداد 76/262 کے تحت منعقد ہوا۔ اس قرارداد کے مطابق سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے بعد جنرل اسمبلی کو دس کاروباری دنوں کے اندر اجلاس بلانا ہوتا ہے۔
گل قیصر سروانی نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کے حصول کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقل ارکان اور ویٹو اختیارات میں اضافہ موجودہ عدم مساوات کو مزید گہرا کرے گا، تاریخی مراعات برقرار رکھے گا اور ادارہ جاتی تعطل کے امکانات بڑھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل ایسے اقدامات نہیں ہو سکتے جو مزید مسائل پیدا کریں۔ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں قائم گروپ ’’یونائٹنگ فار کن سینسس‘‘ سلامتی کونسل کی توسیع کے دوران کسی بھی نئے ملک کو انفرادی طور پر مستقل رکن بنانے کی مخالفت کرتا ہے۔
پاکستانی نمائندے کے مطابق ویٹو پاور ختم کی جانی چاہیے یا کم از کم اس پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہییں۔ اس اختیار کو مزید وسعت دینا درست راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان قرارداد 76/262 کی حمایت کرتا ہے، تاہم ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کی متعلقہ دفعات کے مطابق ہونے چاہییں۔
گل قیصر سروانی نے کہا کہ ویٹو کے اختیار پر پابندیاں عائد کرنے یا سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کی تعداد اور کردار بڑھانے سے موجودہ عدم توازن کم کیا جا سکتا ہے۔ منتخب ارکان کی بہتر نمائندگی اور فیصلوں کی منظوری کے لیے درکار حمایت کی حد میں تبدیلی سے کونسل کو زیادہ جمہوری بنایا جا سکتا ہے اور ویٹو کے استعمال پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکتی ہے۔
