امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا کی فوری ترجیح ملک میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا بھی واشنگٹن کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ تنازع کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم امریکا کی کوشش ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ امریکی شہریوں کے گھریلو اخراجات اور ملکی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے، اسی لیے حکومت توانائی کی قیمتوں کو کم رکھنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق واشنگٹن کی دوسری بڑی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں بے یقینی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے انتہائی اہم بن چکی ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق تنازع کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، تاہم اب قیمتیں اس ابتدائی بلند سطح سے نیچے آچکی ہیں۔ امریکی حکومت کے لیے توانائی کی قیمتیں اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ پٹرول اور گیس مہنگی ہونے سے براہِ راست امریکی عوام کے ماہانہ اخراجات بڑھتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکا کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں واشنگٹن بیک وقت توانائی کی قیمتوں اور ایران کے جوہری پروگرام دونوں کو اہم ترجیحات کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
