اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران جج نے ڈی ایس پی کی عدم حاضری اور کیس ریکارڈ سے متعلق صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے دوران احتجاج دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے مقدمے میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
تفتیشی افسر کی غیر موجودگی پر عدالت نے ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔ ڈی ایس پی کے عدالت پہنچنے پر جج نے کیس کا ریکارڈ طلب کیا اور معلومات مکمل نہ ہونے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
عدالت نے صورتحال پر سیکیورٹی انچارج کو بھی طلب کیا اور ڈی ایس پی کی گرفتاری کے لیے کمرہ عدالت میں ہتھکڑی منگوالی۔ جج نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ان کے حکم کے بغیر ڈی ایس پی کو عدالت سے باہر نہ جانے دیا جائے۔
بعد ازاں ڈی ایس پی نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں موجود ہے اور اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، جبکہ واپسی میں 10 سے 15 دن لگ سکتے ہیں۔
وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں دہشت گردی کے علاوہ دیگر دفعات قابل ضمانت ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی
