ذاتی وجوہات اور ضمیر کی آواز پر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، استعفے میں مؤقف
اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی خبر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال کیا ہے، جس میں ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کو عہدہ چھوڑنے کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ منتقل ہوئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وہ سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں ان کی سینیارٹی دسویں نمبر پر بتائی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے ججز روسٹر کے تحت انہیں راولپنڈی بینچ میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ 2032 میں متوقع تھی۔
رپورٹ کے مطابق استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان تبدیلیوں اور ججز کی تقرری و تبادلوں میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کردار سے عدلیہ کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔
استعفے کے مبینہ متن میں عام سائلین کو درپیش مشکلات اور انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وہ وکالت کے شعبے میں واپس آکر شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔
نوٹ: استعفے کی وصولی، اس کی منظوری اور متعلقہ عدالتی حکام کے باضابطہ مؤقف کی تصدیق کے بعد خبر کو حتمی شکل دی جانی چاہیے۔
