عالمی بحران کا مالی بوجھ عوام پر کیوں؟ حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں کے اثرات کا بڑا بوجھ عوام برداشت کررہے ہیں، جبکہ بعض کاروباری شعبوں کے منافع میں اضافے سے متعلق سوالات کے جواب بھی سامنے آنے چاہییں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کی بندش نے عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ایسے حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، لیکن موجودہ معاشی پالیسیوں سے مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے بیوروکریسی اور بااثر کاروباری طبقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ معاشی بحرانوں میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض مفاداتی گروہ فائدہ حاصل کرلیتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر کہا کہ حکومت عوام سے بھاری رقم وصول کررہی ہے، لیکن ریلیف کی فراہمی محدود ہے۔ ان کے مطابق حکومت تقریباً 150 ارب روپے پیٹرولیم لیوی سے حاصل کررہی ہے، جبکہ ان کے بیان کے مطابق صرف 21 ارب روپے عوامی ریلیف پر خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے ریلیف پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے اور لیوی میں کمی کا مطالبہ بھی کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ نومبر کے وسط میں منعقد کرنے کی تجویز ہے، تاہم حتمی فیصلہ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے سود کی بلند شرح پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے قرضوں کی ادائیگی اور بینکوں سے متعلق مالیاتی نظام کا بالواسطہ بوجھ عوام اور کاروباری طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق بلند شرح سود سے صنعتوں، چھوٹے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے مسائل بڑھتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے آئل ریفائنریز کے منافع میں اضافے سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ان کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈیلرز کے منافع کا شفاف جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے ایل پی جی کی قیمتوں، اشیائے ضروریہ کی مہنگائی اور بازاروں میں نرخوں کی نگرانی کے نظام پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ناجائز منافع خوری روکنے اور شہریوں کو بنیادی اشیا مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات کے لیے پُرامن اور آئینی احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت کی بنیادی ذمہ داری بااثر مفاداتی گروہوں کو قابو کرنا اور عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وضاحت: آئل ریفائنریز کے منافع میں اضافے اور حکومتی محصولات سے متعلق اعدادوشمار حافظ نعیم الرحمن کے بیان سے منسوب ہیں؛ ان کی آزادانہ مالیاتی تصدیق الگ سے ضروری ہے۔
