یائر گولان کا اعتراف: خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین اسٹریٹیجک غلطی تھی
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ اور سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو اسرائیل کی سنگین اسٹریٹیجک غلطی قرار دیا ہے۔
ایک انٹرویو میں یائر گولان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کو ہٹانے سے اسرائیل کو کوئی اسٹریٹیجک فائدہ حاصل نہیں ہوا، بلکہ اس اقدام سے ایران میں سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط ہونے کا موقع ملا۔
گولان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے ایسے اہداف مقرر کیے گئے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔ ان کے مطابق ایران کی حکومت گرانے کا مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکا، جس کے باعث اسرائیل کی اسٹریٹیجک پوزیشن مزید کمزور ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے قیادت سنبھالنے سے ایران میں سخت گیر حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھا، جو اسرائیل کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔
