پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، دفاع کے حق کی حمایت
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے اپنے دفاع کے جائز حق کی بھی حمایت حاصل ہے۔
یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن کا بحران انتہائی تشویشناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جس کے باعث مزید کشیدگی روکنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے والے حملوں سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ ان کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔
عاصم افتخار نے باب المندب کے اطراف بڑھتی ہوئی حوثی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات آزادانہ بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے لیے اہم مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی باب المندب اور یمن کے مغربی ساحل پر حالیہ کشیدگی میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اہم بحری راستوں کو تنازع کا حصہ بنانے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب کے مطابق یمن میں حالیہ کشیدگی نے دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی جھڑپیں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے مغربی ساحل سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان یمن میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جامع، سیاسی اور یمن کی قیادت میں مذاکراتی عمل کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی کم کرنے، مذاکرات آگے بڑھانے اور سیاسی تصفیے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے بحران کا پائیدار حل صرف سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور یمن میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
