اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 18 ستمبر کو جاری کیے گئے مؤقف میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں پر تشویش ظاہر کی۔
کونسل کے مطابق حملوں میں سعودی شہریوں، خواتین اور بچوں سمیت عام افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سلامتی کونسل نے حوثیوں سے سعودی عرب کے خلاف حملے اور فوجی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کونسل نے بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا۔ اس کے علاوہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔
رکن ممالک نے حوثیوں تک اسلحہ، فوجی تربیت، تکنیکی معاونت اور مالی وسائل کی رسائی روکنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے آغاز سے یمن میں جاری لڑائی کے باعث کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
سلامتی کونسل نے حوثیوں سے 73 اقوام متحدہ کے اہلکاروں سمیت زیر حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
