بھارت کی ریاست بہار میں مسیحی خاندانوں کو مبینہ سماجی بائیکاٹ کا سامنا
نئی دہلی: بھارت کی ریاست بہار میں مسیحی برادری کے بعض خاندانوں کو مبینہ طور پر مذہبی دباؤ اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ہندو انتہاپسند عناصر مسیحی خاندانوں پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بہار کے بعض علاقوں میں مسیحی برادری کو مذہبی رسومات کی ادائیگی اور عبادت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض خاندانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارم TRT World کی ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں مقامی ہندو انتہاپسند عناصر کی جانب سے مسیحی برادری کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دکھائی جانے والی گفتگو کے مطابق بعض افراد نے مسلمانوں اور مسیحیوں کو علاقے میں قبول نہ کرنے کی بات کی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم ان بیانات اور الزامات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق کے حوالے سے مزید شواہد سامنے آنا باقی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر مسیحی خاندانوں کو اپنے مذہبی عقائد اور رسومات کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے، جس نے مقامی سطح پر اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق سوالات کو دوبارہ اجاگر کردیا ہے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ امتیازی رویوں اور مذہبی آزادی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی بھی برادری کو سماجی یا قانونی حقوق سے محروم کرنا معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق سے متعلق معاملات گزشتہ کئی برسوں سے ملکی اور عالمی سطح پر زیر بحث رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر زور دیتی رہی ہیں کہ تمام شہریوں کو مذہب سے قطع نظر مساوی تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
بہار میں سامنے آنے والی تازہ اطلاعات نے بھی اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور معاشرتی ہم آہنگی سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
