وومن یونیورسٹی میں غیر قانونی تقرریوں پر شکنجہ ، پی اے سی کا بڑا حکم، یکم اگست تک رپورٹ طلب
کوئٹہ (ڈسٹرکٹ نیوز)
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے رواں سال ہونے والی تمام تقرریوں اور ترقیوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔
چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں آڈٹ اعتراضات، مالی اخراجات، انتظامی معاملات اور پی اے سی احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں رحمت صالح بلوچ، غلام دستگیر بادینی، صفیہ بی بی، سیکرٹری اسمبلی، وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، آڈٹ، قانون، فنانس اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
کمیٹی نے میرٹ سے ہٹ کر بھرتیوں، یومیہ اجرت پر مبینہ پسند و ناپسند، بورڈ اور سینیٹ کے منٹس میں بعد ازاں تبدیلی اور بعض منٹس پر متعلقہ حکام کے دستخط نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ سرکاری فنڈز، تقرریاں اور ترقیاں صرف قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق ہی ہونی چاہئیں۔
پی اے سی نے اسمبلی، آڈٹ، محکمہ قانون اور فنانس پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، جو تمام مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کی قانونی جانچ مکمل کرکے یکم اگست تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اہل اور مستحق ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔