افغانستان میں طالبان مخالف مسلح دھڑوں کی سرگرمیوں میں حالیہ عرصے کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث طالبان حکومت کو سیکیورٹی کے محاذ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال جولائی سے یکم ستمبر کے دوران مختلف طالبان مخالف گروہوں نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کیے۔ ان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، فریڈم فرنٹ اور یونائیٹڈ فرنٹ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
کچھ دیگر مخالف گروہوں نے بھی طالبان کے خلاف حملوں اور مزاحمتی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ ان دھڑوں کی کوشش ہے کہ طالبان پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے، اپنی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جائے اور علاقائی و عالمی سطح پر حمایت حاصل کی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوامی حمایت اور اندرونی اختلافات سے متعلق چیلنجز بھی افغان حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
