سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یکم سے 11 اکتوبر کے دوران ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی 20 کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
ریاض میں پریس کانفرنس کے دوران ترکی المالکی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے مسافروں اور زائرین کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق 7 اکتوبر کو شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ 8 اکتوبر کے واقعے میں تین افراد کی ہلاکت اور پانچ کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔ ان کے بقول 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے، جبکہ 11 اکتوبر کو ٹرمینل 3 پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔
ترکی المالکی نے یکم سے 11 اکتوبر کے دوران ریاض ایئرپورٹ سے متعلق حملوں میں مجموعی طور پر 17 افراد کی ہلاکت اور 333 افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
ان کے مطابق 7 اکتوبر کو ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے جازان کے شاہ عبداللہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شاہ فہد ایئرپورٹ سمیت دیگر ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء، صعدہ اور عمران کے پہاڑی علاقوں میں اسلحے اور دیگر سامان کے ذخائر قائم کر رکھے تھے، جن میں سے اتحادی افواج نے 127 ذخیرہ گاہیں تباہ کر دیں
