امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور وینزویلا سے متعلق تنازعات میں امریکہ کا جدید خلائی جنگی نظام استعمال کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ نظام دنیا کے مختلف حصوں میں تیزی سے تعینات کیا جا سکتا ہے اور اس میں سیٹلائٹ و مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں ایسے نظام اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ دشمن کے مواصلاتی نیٹ ورکس کو متاثر کرنا اور برقی مقناطیسی اسپیکٹرم پر برتری حاصل کرنا فوجی کارروائیوں کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران اس نظام کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں اس کوشش کی نوعیت، نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان اور ایران یا وینزویلا میں اس کے استعمال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں برقی مقناطیسی اسپیکٹرم کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس شعبے میں برتری فوجی مواصلات، سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور دیگر الیکٹرانک نظاموں کے مؤثر استعمال اور تحفظ میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
