سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ایک ہزار سے زائد شہریوں سے سرمایہ کاری کے نام پر 15 ارب روپے سے زیادہ کے مبینہ فراڈ کے کیس میں نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران نیب حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں سے فراڈ کا معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ عدالت نے ڈی جی نیب کراچی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ پیشی پر وضاحت کریں کہ آیا یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر پونزی اسکیم کے ذریعے بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے ہیں۔ درخواست گزار اظہر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہزار سے زائد افراد سے 15 ارب روپے سے زیادہ کی رقم ہتھیائی گئی اور نیب نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کرنے کے بجائے کیس ایف آئی اے کو منتقل کرنے کی بات کی۔
