پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کو قومی اسکواڈ سے باہر کیے جانے کے بعد ان کی حالیہ کارکردگی اور قیادت ایک بار پھر زیر بحث آگئی ہے۔
سلمان علی آغا پاکستان کی جانب سے 50 میچز میں قیادت کرچکے ہیں اور بابر اعظم کے بعد سب سے زیادہ میچز میں قومی ٹیم کی کپتانی کرنے والے کھلاڑی ہیں۔
ان کی قیادت میں پاکستان نے 31 میچز میں کامیابی حاصل کی، 18 میں شکست ہوئی جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھی پاکستان نے ان کی قیادت میں 7 میں سے 4 میچز جیتے، 2 میں شکست ہوئی اور ایک میچ بے نتیجہ رہا۔
تاہم ورلڈکپ میں سلمان علی آغا کی ذاتی بیٹنگ کارکردگی متاثر کن نہیں رہی۔ انہوں نے 6 اننگز میں صرف 65 رنز بنائے اور ان کی اوسط 9.28 رہی، جس کے بعد ان کی کپتانی پر سوالات اٹھنے لگے۔
اس دوران سلمان علی آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے پریذیڈنٹ ٹرافی میں فرسٹ کلاس ٹرپل سنچری بھی اسکور کی، تاہم اس کے باوجود انہیں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا اور سری لنکا کے خلاف سیریز کے اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔
اب صاحبزادہ فرحان کو مستقل ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر کردیا گیا ہے۔ صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 اننگز میں 2 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 383 رنز بنائے تھے۔
