صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے وفد نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر اسد قاسم کی قیادت میں ایوان صدر مظفرآباد میں ملاقات کی۔ وفد میں سینیٹر ناصر محمود، سینیٹر دوست علی جیسر اور سینیٹر ندیم احمد بھٹو شامل تھے۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، ملکی و علاقائی صورتحال اور آزاد جموں و کشمیر سے متعلق مختلف اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو بھی زیر بحث لایا گیا۔صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا ایک بنیادی اور دیرینہ تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔صدر آزاد جموں و کشمیر نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے پارلیمانی سفارت کاری اور قومی اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران مسئلہ کشمیر کو قومی پالیسی اور پارلیمانی فورمز پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر سے متعلق اہم معاملات پر بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے . مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور آزاد جموں و کشمیر سے متعلق اہم معاملات پر باہمی رابطے اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
