پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف آئندہ ہوم ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار پچز تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹرائنگولر ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد پاکستانی ٹیم اب سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 9 نومبر کو راولپنڈی جبکہ دوسرا میچ 17 نومبر سے لاہور میں کھیلا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کو حالیہ بیرون ملک ٹیسٹ سیریز میں مشکلات کا سامنا رہا۔ بنگلادیش کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست ہوئی جبکہ انگلینڈ نے آخری سیریز میں پاکستان کو تین صفر سے وائٹ واش کیا۔ ویسٹ انڈیز کے دورے پر پاکستانی ٹیم کو ایک کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
ان نتائج کے بعد پی سی بی کے تھنک ٹینک نے ہوم گراؤنڈز پر ایسی پچز تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے جو فاسٹ بولرز کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہوں۔
ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سری لنکا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز کے لیے گراؤنڈز مین کو تیز رفتار پچز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ پاکستانی فاسٹ بولرز کو ہوم کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی دکھانے کا موقع مل سکے۔
سری لنکا کے خلاف سہ روزہ میچ کے بعد پیٹرنز الیون کے دو فاسٹ بولرز کو قومی اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد عباس اور رضا اللہ کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلنے والی قومی ٹیم میں متعدد تبدیلیوں کی توقع ہے۔ صائم ایوب، عبداللہ شفیق، شان مسعود، محمد عمران اور محمد علی کی پوزیشن خطرے میں بتائی جارہی ہے۔
شان مسعود نے برمنگھم ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 95 رنز بنائے تھے، تاہم کوچنگ اسٹاف اب ان کی جگہ کسی نوجوان کھلاڑی کو موقع دینے پر غور کر رہا ہے۔
اوپننگ جوڑی میں بھی تبدیلی متوقع ہے، جہاں اذان اویس کے ساتھ عبداللہ فضل کو مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بابر اعظم کو فارم کی بحالی کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں چار روزہ میچز کھیلنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد وہ قائداعظم ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دیے جانے کے باعث قومی ٹیم کے اسٹار کھلاڑی بھی مختلف ریجنز اور ڈیپارٹمنٹس کی نمائندگی کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان 10 ٹیموں میں نویں نمبر پر ہے، جبکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی موجودہ درجہ بندی میں بھی قومی ٹیم آخری پوزیشن پر موجود ہے۔
پی سی بی حکام کو امید ہے کہ نئی حکمتِ عملی، بہتر پچز اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے سے قومی ٹیم کی آئندہ ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی بہتر ہوسکے گی
