آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا، ملک ایسے نہیں چل سکتا، محمود اچکزئی
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہییں، کیونکہ ملک کو موجودہ انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں محمود اچکزئی نے کہا کہ جب وہ حکومت سے بات کرتے ہیں تو جواب میں سخت زبان استعمال کی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے۔
انہوں نے خواجہ آصف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق اگر پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تو اپوزیشن بھی اس سلسلے میں تعاون کرے گی۔
محمود اچکزئی نے ملک میں غربت، بے روزگاری اور تعلیم کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ عام شہری مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں ملک کو کیسے چلایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سابقہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے معاملات کو صرف تنقید اور سخت بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق طالبان کو ماضی میں قومی اثاثہ قرار دیا گیا تھا، اس لیے موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی درکار ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے ایران کی صورتحال پر بھی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے، تاکہ اپوزیشن قومی معاملات میں حکومت کا ساتھ دے سکے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ کوئی بھی حکمران فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں، وہ بھی آخرکار شکست سے دوچار ہوا تھا۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ ماضی کے اختلافات بھلا کر مل بیٹھیں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
