پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے سے 30 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 28 بچے اور دو خواتین اساتذہ شامل ہیں، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حادثے کے بعد ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول کے عملے کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ زخمی بچوں اور اساتذہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کیا گیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق بچوں کی عمریں 13 سال تک تھیں۔ نصیراللہ بابر میموریل اسپتال میں 33 زخمی بچوں کو لایا گیا، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے خدشے کے باعث ریسکیو آپریشن جاری رہا۔
پاک فوج کے جوانوں نے دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ملبے میں پھنسے بچوں اور اسکول کے عملے کو نکالنے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ گورنر نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق متاثرہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول کی چھتیں خستہ حالت میں تعمیر کی گئی تھیں اور واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسکول تنگ گلیوں میں واقع ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، جبکہ وہاں 110 بچے زیر تعلیم تھے۔
