لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے گاڑی کی سپرداری سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران نظام کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پورا سسٹم ہی خراب ہے اور کوئی کام نہیں کررہا، اسے آخر کیسے درست کیا جائے گا؟
یہ کیس گاڑی کی سپرداری کی درخواست سے متعلق تھا، جس میں 9 سال گزرنے کے باوجود چالان جمع نہیں کروایا جاسکا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے درخواست گزار طاہر علی پھول کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سپرداری کی درخواست دائر کیے ہوئے 9 سال گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اس پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ 9 سال گزرنے کے بعد ایف آئی آر کا معاملہ نہ اٹھائیں بلکہ یہ بتایا جائے کہ درخواست گزار کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
اس پر پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار سے گاڑی برآمد ہوئی تھی اور اس حوالے سے مقدمہ 2015 میں درج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار گاڑی کرایے پر چلاتا تھا، جبکہ مالک نے گاڑی میں خورد برد کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں گاڑی کے نمبر میں ٹیمپرنگ سامنے آئی، جس کے باعث سپرداری کی درخواست خارج کردی گئی۔ گاڑی موجودہ درخواست گزار نے خریدی تھی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے نظام کو درست کیوں نہیں کرتے؟ عدالت میں موجود سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ 2010 سے متعلق ریکارڈ بھی درست کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب تمام چیزیں پہلے سے موجود تھیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ پورا نظام خراب ہے، اسے کیسے ٹھیک کیا جائے گا، کوئی کام نہیں کرتا۔
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ گاڑی کس شخص سے خریدی گئی تھی اور کیا اس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی؟ کیا گاڑی قانونی طور پر درخواست گزار کے نام منتقل ہوئی تھی؟
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ گاڑی ابھی تک ان کے مؤکل کے نام منتقل نہیں ہوئی۔
اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب گاڑی کے کاغذات آپ کے نام پر نہیں تو آپ اس کے مالک کیسے بن گئے؟ گاڑی کا نمبر بھی ٹیمپرڈ ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بوگس نمبر پلیٹ استعمال کرنے پر درخواست گزار کے خلاف بھی مقدمہ بن سکتا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے گاڑی کی سپرداری سے متعلق درخواست خارج کردی۔
